ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی بی ایم پی انتخابات ایک بار پھر کھٹائی میں -سپریم کورٹ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ پر لگائی روک

بی بی ایم پی انتخابات ایک بار پھر کھٹائی میں -سپریم کورٹ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ پر لگائی روک

Sat, 19 Dec 2020 10:58:35    S.O. News Service

بنگلورو،19؍دسمبر(ایس او نیوز) برہت بنگلورو مہا نگرپالیکے (بی بی ایم پی) کے انتخابات کو ٹالنے کیلئے کرناٹک کی بی جے پی حکومت کی کوششوں پر جمعہ کے روز اس وقت عدالتی مہر لگ گئی جب سپریم کورٹ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلہ پر روک لگا دی جس میں کہا گیا تھا کہ10ہفتوں کے اندر بی بی ایم پی کونسل کے انتخابات کروائے جائیں۔

عدالت عظمیٰ نے اس سلسلہ میں کرناٹک کے ریاستی الیکشن کمیشن اور کرناٹک ہائی کورٹ میں بی بی ایم پی انتخابات کروانے کیلئے عرضی داخل کرنے والے فریقوں سابق کارپوریٹرس عبدالواجد، روی جگن اور ایم شیوراجو کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رام سبرامنیم نے جمعہ کے روز ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے حکومت کرناٹک کی طرف سے دائر عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ کی طرف سے صادر فیصلہ پر روک لگانے کا حکم سنایا۔

یا درہے کہ 4دسمبرکو کرناٹک ہائی کورٹ نے حکومت کرناٹک کو ہدایت دی تھی کہ 10ہفتوں کے اندر بی بی ایم پی کی نئی کونسل کے انتخابی عمل کو پورا کرلیا جائے۔ اس مرحلے میں ریاستی حکومت کی طرف سے یہ استدلال کیا گیا تھا کہ بی بی ایم پی کیلئے ایک الگ قانون بنایا جا رہا ہے اور وارڈوں کی تعداد کو 198سے بڑھا کر 243کیا جا رہا ہے اور اس عمل کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو کافی وقت درکار ہے اس لئے بی بی ایم پی کونسل کے انتخابات کروانے کیلئے مہلت دی جائے۔

سپریم کورٹ میں حکومت کرناٹک کی طرف سے وکیل شبرانشو پادھی نے عرضی داخل کی جس کی پیروی کرتے ہوئے اڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتانے کہا کہ اس حقیقت سے قطع نظر کہ حکومت کرناٹک نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ اس نے بی بی ایم پی کیلئے ایک مخصوص قانون بنایا ہے اور اس کے تحت وارڈوں کی تعداد کو بڑھا کر 243کیا جا رہا ہے کرناٹک ہائی کورٹ نے حالانکہ ترمیمات کو منظورکرلیا لیکن سابقہ تعداد یعنی 198وارڈوں کیلئے ہی انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے جو عملاً درست نہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اسمبلی اور کونسل میں اتفاق رائے سے منظور شدہ قانون کے برعکس ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے-


Share: